بلمین کا کہنا ہے کہ اس سے قبل لوگ نہیں جانتے تھے کہ ورزش دماغ پر بالکل اسی طرح کا اچھا اثر مرتب کرتی ہے جیسا عضلات پر۔ آپ نے یہ تودیکھا ہی ہوگا کہ ورزش سے عضلات کی تعمیر کی جاسکتی ہے اب یہ سمجھ لیجئے کہ اس طرح دماغ کی بھی تعمیر ہوسکتی ہے۔
ورزش صرف عضلات کو مضبوط بنانے اور امراض قلب سے محفوظ کرنے کاکام ہی نہیں کرتی بلکہ سائنس یہ بتاتی ہے کہ اس سے دماغی قوت میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ ورزش کے حوالے سے ایک نئی سائنسی تحقیق نے مختلف اعصابی امراض مثلاً الزائمر سے نمٹنے کی امید بھی پیدا کردی ہے۔ چارلس بلمین ایک نیورئنٹسٹ ہے۔ اس نے اپنے تجربے سے ثابت کیا کہ ورزش نہ صرف عضلات بلکہ دماغ کیلئے بھی مفید ہے اس نے سکول کے 259 طلباء کو ایک تجربے سے گزارا۔ ان کا باڈی ماس انڈیکس معلوم کیا اور روزمرہ کی ورزشیں شروع کرادیں۔ ان ورزشوں میں بہت سی ایروبک ایکسرسائز شامل تھیں۔ دیکھا یہ گیا کہ جو بچے جسمانی طور پر سب سے زیادہ فٹ تھے ان کے دماغ بھی سب سے زیادہ اچھے تھے۔اس تحقیق میں سماجی اور اقتصادی عوامل کو بھی پیش نظر رکھا گیا۔ بلمین کا کہنا ہے کہ غالباً صرف سخت ورزش نے ہی طالب علموں کی ذہنی صلاحیت کو بڑھا دیا۔ حالیہ دنوں کے دوران سائنس نے یہ بتایا ہے کہ ورزش لوگوں کو زیادہ سمارٹ بنادیتی ہے۔ گزشتہ عرصے میں ایک ایسا مقالہ شائع ہوا جو اس موضوع پر سنگ میل ہے۔ سائنس دانوں نے اعلان کیا کہ انہوں نے انسانی دماغ کو نئے اعصابی خلیات بنانے میں کامیابی دلادی ہے۔ گزشتہ برسوں کے دوران ہمیشہ یہ خیال رہا کہ یہ ناممکن ہوگا پھر سائنس دانوں نے اس ناممکن کو کس طرح ممکن کیا۔۔۔؟ محض تین ماہ کی ایروبک ورزشوں کے ذریعے۔
بعض سائنس دانوں نے یہ بھی سراغ لگایا کہ بے حد سخت ورزش سے معمر اور بوڑھے ہوتے ہوئے کمزور اعصابی دماغی خلیات کو مضبوط بنایا جاسکتا ہے۔ ان کے باہمی کنکشنر بحال کئے جاسکتے ہیں۔ اس سے دماغ زیادہ تیزرفتار اور چست ہوسکتا ہے۔ اس بات کی بھی علامات ملی ہیں کہ جسمانی سرگرمی الزائمر جیسی معذوری دینے والی دماغی بیماری کوروک سکتی ہے۔ ساتھ ہی ساتھ ٹینشن ڈیفشنسی‘ ہائپر ایکٹیوٹی‘ ڈس آرڈر اور دیگر اعصابی امراض پر بھی قابو پایا جاسکتا ہے۔ اس میں عمر کی بھی کوئی قید نہیں ہوتی۔ نئی تحقیق سے ثابت ہے کہ کسی بھی عمر میں مضبوط‘ چست و فعال جسم حاصل کرکے مضبوط اور چست دماغ حاصل کیا جاسکتا ہے۔سائنس دانوں کو اس بارے میں کچھ اندازے تو ہمیشہ سے تھے کہ سخت ورزش کا دماغی قوت اور صحت سے براہ راست تعلق ہے لیکن وہ اسے ثابت نہیں کرسکے تھے۔ اب انہوں نے اسے سائنسی طور پر ثابت بھی کردیا ہے۔
مغربی محققین نے بھی طویل عرصہ پہلے یہ بات جان لی تھی کہ ورزش دل کو آمادہ کرتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ خون پمپ کرے تاکہ وہ دماغ تک پہنچ سکے۔ ساتھ ہی ساتھ پورے جسم کو اس کی فراہمی اچھی رہے اور زیادہ کون کا مطلب ہے زیادہ آکسیجن اور اس کا مطلب ہے کہ دماغ کے خلیات کو زیادہ خوراک پہنچ رہی ہے۔ بلمین کا کہنا ہے کہ اس سے قبل لوگ نہیں جانتے تھے کہ ورزش دماغ پر بالکل اسی طرح کا اچھا اثر مرتب کرتی ہے جیسا عضلات پر۔ آپ نے یہ تودیکھا ہی ہوگا کہ ورزش سے عضلات کی تعمیر کی جاسکتی ہے اب یہ سمجھ لیجئے کہ اس طرح دماغ کی بھی تعمیر ہوسکتی ہے۔
بلند خیالات کیلئے ایندھن: ماہرین نے یہ سراغ لگالیا ہے کہ ورزش کے دماغ پر اثرات زیادہ گہرے اور پیچیدہ ہوتے ہیں لیکن ان اثرات کا آغاز عضلات ہی سے ہوتا ہے۔ ہر مرتبہ جب جسم کو ورزش کیلئے کھینچا جاتا ہے تو متعلقہ عضلات بہت سے کیمیکلز جاری کرتے ہیںجو خون میں سفر کرتے ہوئے دماغ تک پہنچتے ہیں۔ ان میں ایک پروٹینGFONEبھی شامل ہے۔ یہ پروٹین جسم کی نیورو ٹرانسمیٹ فیکٹری میں فورمین کاکام سنبھال لیتی ہے۔ ایک کتاب سپارک ورزش اور دماغ کی انقلابی سائنس کے مصنف کا کہنا ہے کہ یہ کیمیکلز دماغ کی کرشماتی نشوونما کرتے ہیں اور ان تمام دماغی افعال کیلئے جن کا تعلق بلند ترین فکرو خیال سےہوتاہے ایندھن فراہم کرتے ہیں۔
باقاعدہ ورزش کے ذریعے جسم بی ڈی این ایف کی سطح بڑھا سکتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ دماغی خلیات نئی کونپلیں نکالنے لگتے ہیں۔ ان کے ٹوٹے ہوئے کنکشن جڑنےلگتے ہیں اور وہ نئے طریقوں سے ایک دوسرے کے ساتھ کمیونی کیٹ کرنے لگتے ہیں اور یہ عمل ہے جس کا تعلق سیکھنے اور علم حاصل کرنے سے ہے۔ دماغی خلیات کے درمیان جو جنکشن واقع ہوتے ہیں ان میں ہر تبدیلی کسی نئی مہارت یا علم کے حصول پر آتی ہے۔ بی ڈی این ایف اس عمل کو ممکن بناتا ہے۔ جن دماغوں میں یہ کیمیکل زیادہ ہوتا ہے ان میں علم حاصل کرنے کی زیادہ گنجائش ہوتی ہے۔
تین ماہ کی ورزش سے نیا دماغ: اکثر افراد میں بلوغت تک تسلسل کے ساتھ بی ڈی این ایف کی سطح اچھی رہتی ہے لیکن جیسے جیسے ان کی عمر بڑھتی جاتی ہے تو ان کے کچھ دماغی خلیات مرنےلگتے ہیں۔ 90ء کی دہائی کے وسط تک سائنس دانوں کا خیال تھا کہ دماغ مردہ ہونے والے خلیات کی جگہ نئے اعصابی خلیات نہیں بناسکتا۔ لیکن جانوروں پر ہونے والے تجربات سے یہ ثابت ہوا کہ دماغ کے بعض حصوں میں ورزش کے ذریعے نیورو جینی سس کا عمل شروع کیا جاسکتا ہے۔ حالیہ تحقیق سے پتہ چلا کہ اس اصول کا اطلاق انسانوں پر بھی ہوتا ہے اور یہ زیادہ وسیع ہے۔ محض تین ماہ تک سخت ورزش کرنے سے تمام افراد کے دماغ میں نئے نیورون بننے لگتے ہیں ۔مطلب یہ ہوا کہ ورزش دماغ کی سطح کو صحت مندانہ بلکہ نوجوان سطح پر لاسکتی ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ بڑھاپے کا عمل رک جائے گا بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ صورتحال بہتر ہوگی۔
جہاں تک سائنس دان معلوم کرسکتے ہیں‘ نئے خلیات بننے کا عمل دماغ کے ہر حصے میں نہیں ہوتا کچھ حصوں میں ہوتا ہے لیکن اس سے باقی ماندہ حصوں کو بھی ورزش سے فائدہ پہنچتا ہے۔ مثلاً خون کی فراہمی بڑھ جاتی ہے اور خود دماغ کا حجم بڑھ جاتا ہے۔ جہاں جہاں دماغ کے نئے خلیات بنتے ہیں وہاں معمر افراد کے دماغ میں سوزش کم ہوتی ہے۔ ان میں چھوٹے چھوٹے اسٹروکس بھی کم ہوتے ہیں وہ اسٹروکس جو خاموشی سے ہوتے ہیں وہ دماغی صلاحیت کو متاثر کیا کرتے ہیں۔
ماہرین کہتے ہیں کہ انسان کا ارتقاء اس لیے ہوا ہے کہ وہ جسمانی نقل و حرکت جاری رکھے اس کے بغیر ہمارے دماغ وہ سب کچھ نہیں کرسکتے جو انہیں کرنا چاہیے۔ جائزوں سے پتہ چلتا ہے کہ جو لوگ ہفتے کے کچھ دنوں میں ورزش کرتے رہتے ہیں ان میں الزائمر کم ہوتا ہے‘ سست اور کاہل افراد کے مقابلے میں اگر یہ ہوتا بھی ہے تو بہت دیرسے ہوتا ہے۔
حضرت حکیم محمد طارق محمود مجذوبی چغتائی (دامت برکاتہم) فاضل طب و جراحت ہیں اور پاکستان کونسل سے رجسٹرڈ پریکٹیشنز ہیں۔حضرت (دامت برکاتہم) ماہنامہ عبقری کے ایڈیٹر اور طب نبوی اور جدید سائنس‘ روحانیت‘ صوفی ازم پر تقریباً 250 سے زائد کتابوں کے محقق اور مصنف ہیں۔ ان کی کتب اور تالیفات کا ترجمہ کئی زبانوں میں ہوچکا ہے۔ حضرت (دامت برکاتہم) آقا سرور کونین ﷺ کی پُرامن شریعت اور مسنون اعمال سے مزین، راحت والی زندگی کا پیغام اُمت کو دے رہے ہیں۔ مزید پڑھیں